مسیحی دفاعِ ایمان

گزشتہ چند صدیوں کے دوران بہت سارے نام نہاد علماء نے مختلف انداز سے مسیحیت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کبھی وہ نئے عہد نامے کی حقانیت پر سوال اُٹھاتے ہیں تو کبھی معجزات اور نئے عہد نامے کی تعلیمات کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ ایک بہت بڑا گروہ ایسا بھی ہے جو یسوع کی ذات پر طرح طرح کے حملے کرتا رہتا ہے جیسے کہ یسوع مسیح کے الوہیت کے دعوؤں پر اعتراضات، اور اُسکی بشریت کے مختلف پہلوؤں پر بھی تنقید۔ بعض تو ایسے ہیں جو یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ یسوع حقیقی تاریخی شخصیت تھا ہی نہیں بلکہ ایک افسانوی شخصیت ہے جس کی مسیحیت نے پرستش کرنا شروع کر دی ہے۔ مزید کچھ لوگوں نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تاریخی یسوع مسیح اور انجیل میں بیان کردہ یسوع مسیح یکسر دو مختلف شخصیات ہیں۔ اُن کے مطابق اگر تاریخ میں یسوع مسیح نامی کوئی ہستی ہوگزری بھی ہے تو وہ بالکل عام انسانوں جیسا کوئی انسان تھا لیکن اناجیل میں جس یسوع کی بات کی گئی ہے وہ دیومالائی کردار ہے۔ اِس سیمینار کی مدد سے آپ یسوع مسیح کی ذات کے تاریخی پہلو کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ بائبل سے باہر عام تاریخ یسوع کے بارے میں کیا کہتی ہے اور اُسے کس طرح سے پیش کرتی ہے

اصلاحِ کلیسیاء

گزشتہ چند صدیوں کے دوران بہت سارے نام نہاد علماء نے مختلف انداز سے مسیحیت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کبھی وہ نئے عہد نامے کی حقانیت پر سوال اُٹھاتے ہیں تو کبھی معجزات اور نئے عہد نامے کی تعلیمات کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ ایک بہت بڑا گروہ ایسا بھی ہے جو یسوع کی ذات پر طرح طرح کے حملے کرتا رہتا ہے جیسے کہ یسوع مسیح کے الوہیت کے دعوؤں پر اعتراضات، اور اُسکی بشریت کے مختلف پہلوؤں پر بھی تنقید۔ بعض تو ایسے ہیں جو یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ یسوع حقیقی تاریخی شخصیت تھا ہی نہیں بلکہ ایک افسانوی شخصیت ہے جس کی مسیحیت نے پرستش کرنا شروع کر دی ہے۔ مزید کچھ لوگوں نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تاریخی یسوع مسیح اور انجیل میں بیان کردہ یسوع مسیح یکسر دو مختلف شخصیات ہیں۔ اُن کے مطابق اگر تاریخ میں یسوع مسیح نامی کوئی ہستی ہوگزری بھی ہے تو وہ بالکل عام انسانوں جیسا کوئی انسان تھا لیکن اناجیل میں جس یسوع کی بات کی گئی ہے وہ دیومالائی کردار ہے۔ اِس سیمینار کی مدد سے آپ یسوع مسیح کی ذات کے تاریخی پہلو کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ بائبل سے باہر عام تاریخ یسوع کے بارے میں کیا کہتی ہے اور اُسے کس طرح سے پیش کرتی ہے

اصلاحِ منبر

اظہار خیال
رسولوں کے اعمال 20باب 26 اور 27 آیات میں پولس رسول نے بڑے بے باک انداز سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ “پس مَیں آج کے دِن تمہیں قطعی کہتاہوں کہ سب آدمیوں کے خون سے پاک ہوں ۔کیونکہ مَیں خُدا کی ساری مرضی تم سے پورے طور پر بیان کرنے سے نہ جھجکا ۔” پولس رسول کا یہ دعویٰ مسیحی خادمین کے لئے نہ صرف مشعل راہ ہے بلکہ چیلنج بھی ہے ۔ پولس اپنے گہرے اطمینان کی وجہ اپنی زندگی میں کلام مقدس کی خدمت کی بخوبی انجام دہی کو قرار دیتا ہے ۔ بلاشبہ یہ بات حقیقت ہے کہ اصل خدمت “کلام کی خدمت” ہے ۔ کلام مقدس کی درست خدمت ہر دور میں ایک سنجیدہ اور حساس معاملہ رہی ہے ۔ کلام مقدس کی خدمت کی درست اور بخوبی انجام دہی حقیقت میں ایک خادم کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے ۔ کلیسیا ئے پاکستان کو درست اور بائبلی مسیحی تعلیمی مواد کے شدید فقدان کا سامنا ہے ۔ ہما رے ہاں المیہ یہ ہے کہ مطا لعہ و تحقیق کرنے ، سیکھنے لکھنے اور سکھانے کا عمل بیحد سست ہے اور اگر کسی حد تک مسیحی تعلیمی مواد کی اشاعت ہو بھی رہی ہے تو اِس کے پس منظر میں ذاتی تشہیر ، مالی نفع اور نظریاتی ایجنڈوں جیسے محر کات کار فرماہوتے ہیں ۔
 ہم جس جگہ اور دور میں رہ رہے ہیں وہاں پر بھیک مانگنے سے لیکر ووٹ مانگنے تک جیسے کاموں میں گلیمر کا بے انتہا استعمال ہوتا ہے ۔ اور ہمارے کلیسیائی حلقے کسی طور پر بھی اِس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔مسیحی خدمت کو کاروبار کے طور پر اپنا نے کا رجحان دن بدن زور پکڑ رہا ہے اور کلیسیا ئیں اپنی منزل کا نشان کھورہی ہیں ۔ موجود ہ صورتحال دردناک ہونے کیسا تھ ساتھ خوفنا ک بھی ہے کیو نکہ بے شما ر لوگ مسیحی کہلانے کے باوجود خُدا کی ابدی بادشاہی کی بجائے ہلاکت کی طرف رواں دواں ہیں ۔ اِس دردناک صورتحال کی وجہ حقیقت میں عدم معرفت ہے جیسا کہ بائبل مقدس میں ہوسیع نبی کی معرفت بیان کیا گیا ہے ۔ ہما رے لئے تسلی کی بات یہ ہے کہ ہمارا خُدا کسی بھی طرح کے حالات میں ہمیں بے یارو مدگا ر اور تنہا نہیں چھوڑ تا ۔ خُدا نے ہر دور میں اپنے لوگوں اور اپنے خادمین کی مدد ، رہنمائی ، حفاظت اور اصلاح کے کام کو جاری رکھا ہے ۔
حال ہی میں مجھے ڈاکٹرایلیاہ میسؔی کی طرف سے اُنکی اِس زیر نظر کتاب “اصلاح منبر”  کا مسودہ موصول ہوا ۔ اِس کتا ب کے مطا لعہ کے بعد سب سے پہلے تو مَیں اِس کتاب کے لکھے جانے کے لئے خُدا کا شکر ادا کرتا ہوں ۔ ڈاکٹر ایلیاہ نے کلیسیائی حالات ومسائل اور اُنکی وجوہات کا غیرجانبدرانہ اور متوازن تجزیہ کرتے ہوئے اپنی اِس تصنیف اصلاح منبر کی صورت میں ایک انتہائی موثر اور جامع حل پیش کیا ہے ۔ مصنف موصوف نے کلام مقدس کی روشنی میں پاکستانی خادمین کی رہنمائی کرتے ہوئے بجا طور پر اِس بات کو واضح کیا ہے کہ اگر کلیسیائیں کلام ِخُدا اور صحیح العقیدہ مسیحیت میں اپنی دلچسپی کھورہی ہیں ، اگر کلیسیا ئیں اخلاقی گراوٹ کا شکا ر ہورہی ہیں ، اگر مسیحی لوگوں کے ضمیر انحطاط پذیری اور بے حسی کا شکا ر ہورہے ہیں اور اگر کلیسیا ؤں میں بگاڑا اور تنزلی کی بدولت ابلیس کی اجا رہ داری ظاہر ہورہی ہے تو اُس صورت میں کلیسیا ئی منبر پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ثبت ہے ۔
ڈاکٹر ایلیاہ نے اِس اہم اورا حساس موضوع پر قلم اُٹھاتے ہوئے اپنی پوری قوت ، توجہ اور ذمہ داری کیسا تھ اِس کا احاطہ کیا ہے ۔” اصلاح منبر” وسیع اور مفصل ہونے کی بنا ء پر ایک جامع تصنیف ہے ۔ یہ کتاب بھی ڈاکٹر ایلیاہ میسی صاحب کی دیگر تصانیف کی طرح اُردو مسیحی تعلیمی مواد میں ایک معیاری اضافہ ہے ۔ مَیں اُنکی کلیسیا ئے پاکستان سے محبت ، خدمت کے سچے جذبے ، محنت ذہانت اور قوت تحریر کے لئے خُداوند خُدا کا شکر بجا لاتا ہوں ۔ میری دعا ہے کہ خُداوند خُدا اُنہیں اور کثرت کیساتھ اپنی خدمت اور اپنے نام کے جلال کے لئے استعمال کرے ۔ آخر میں” اصلاح منبر” کےحوالے سے مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے خیال سے اِس کتاب کے بغیر مسیحی خادمین کی ذاتی لائبریری ادھوری ہوگی ۔ مَیں پُر یقین ہوں کہ اصلاح منبر پاکستانی خادمین کی کلام مقدس کی درست اور موثر خدمت کے لئے بیحد مدد گار ثابت ہوگی اور اُنکی موثر خدمت کے نتیجے  کے طور پر کلیسیا ئے پاکستان کی روحانی ترقی اور مضبوطی کا باعث بنے گی ۔ ۔                                                                                            ندیم میسی    
                                                                                                                                                                کیلوری چیپل پاکستان مشن
مریم اور بائبل
کلیسیا کی رُوحانی  تاریخ اِس بات کی گواہ ہے کہ شروع ہی سے ابلیس کا یہ مخصوص داؤرہا ہے کہ وہ خُدا کے کلام کی غلط تفسیر انسان کے ذہن میں ڈال کر اسکے اندر سے نرم گوشہ ختم کر دیتا ہے (یعنی انسان کو کٹر بنا دیتا ہے ) تاکہ وہ سختی سے اپنے نظریات وخیالات پر ڈٹارہے ۔ یوں انسان غلط کوٹھیک اور جھوٹ کو سچ سمجھتے ہوئے گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا پھرتا ہے جب تک رُوح القدس اس کے ذہن کو منور کرکے اپنے جلال کی روشنی میں لا کر کھڑا نہیں کر دیتا ۔ آج مسیحی دُنیا میں بہت ساری بدعات ابلیس کی اسی چال اور انسان کی گمراہی کا نتیجہ ہیں ۔
کلیسیائے پاکستان کا بڑا المیہ یہ ہے کہ عام لوگوں نے رُوحانی معاملات پر سوچ وبچا ر کا کام پورے طور پر دینی خادموں کے سپرد کر رکھا ہے اور خود کلام ِمقدس کی تحقیق و تفتیش سے بالکل بے بہر ہ رہتے ہیں ۔ اور کسی چرچ (تنظیم ) سے محض چمٹے رہنا اِس لئے فرض سمجھتے ہیں کہ اِن کے باپ دادا اِس چرچ (تنظیم ) سے وابستہ تھے ۔ عام لوگوں کی اِس غفلت کا فائدہ اُٹھا تے ہوئے بہت سارے مبلغین و مفسرین روز گا ریا ذاتی مفادات کی خاطر اپنی تنظیم کے نظریات ،روایات و خیالات کی منادی کر کے لوگوں کو مسحور رکھتے ہیں۔ چاہے یہ نظریات ،روایات وخیالات بائبل مقدس کے کس قدر منا فی کیو ں نہ ہوں ۔ یوں وہ دید دانستہ یا نا انستہ لوگوں کے رُوحانی مستقبل سے کھیلتے رہتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آخر کار انہیں اِس بات کا خُداوند کے حضور حساب دینا پڑے گا ۔
کلیسیا ئے پاکستان کی موجو دہ رُوحانی صورت حال کے پیش نظر صاحبِ رویا ، اور خُدا کے کلام کی ٹھیک سوجھ بوجھ رکھنے والے خادم کلیسیا کی اوّلین ضرورت ہیں ۔ بمطا بق یرمیاہ 15 باب 19 ایسے خادم جو لطیف کو کثیف سے جدا کرنے میں لگے رہتے ہیں خُدا کے منہ کی مانند ہیں ۔ خُدا ایسے خادموں کی عزت و قدر کرتا ہے ۔ زیر ِنظر کتا ب میں ہما رے مصنف نے اپنے موضوع کو پیش کرتے ہوئے جس مہا رت و نفا ست سے لطیف کو کثیف سے جدا کیا ہے وہ خُدا کی نگا ہ میں تو قابل قدر ہیں ہی وہ ہما ری مبا رک باد کے بھی مستحق ہیں ۔
زیر ِکتاب “بائبل اور مریم” میں خُدا کے خادم جنا ب ڈاکٹر ایلیاہ میسیؔ صاحب نے کیتھولک اِزم کے عقید ہ مریم اور مریم پر ستی کو نہا یت مدلل ، ٹھوس اور منطقی انداز میں کلام مقدس کی کسوٹی پر پرکھا ہے ۔ جس سے قاری کو نہ صرف کیتھولک ازم کے اِس عقیدے کو مزید گہرائی سے جاننے کا موقع ملتا ہے بلکہ اِس عقیدے کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے ۔ خُدا کے خادم جنا ب ڈاکٹر ایلیاہ میسی ؔ ایک وقف شدہ خادم ہیں جو خالص انجیلی خدمت کا زبردست بوجھ اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر ا یلیاہ میسی ؔ صاب کو بیشک خُدا نے اپنے ازلی منصوبہ کے تحت امریکہ میں خدمت کے لئے رکھا ہے لیکن ان کا دل آج بھی پاکستا نی کلیسیاکے لئے دھڑکتا ہے ۔ جس کا ثبوت یہ کتاب ہے جو انہوں نے اُردو زبان میں تحریر کی۔

مفسر اور تفسیر

گزشتہ چند صدیوں کے دوران بہت سارے نام نہاد علماء نے مختلف انداز سے مسیحیت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کبھی وہ نئے عہد نامے کی حقانیت پر سوال اُٹھاتے ہیں تو کبھی معجزات اور نئے عہد نامے کی تعلیمات کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ ایک بہت بڑا گروہ ایسا بھی ہے جو یسوع کی ذات پر طرح طرح کے حملے کرتا رہتا ہے جیسے کہ یسوع مسیح کے الوہیت کے دعوؤں پر اعتراضات، اور اُسکی بشریت کے مختلف پہلوؤں پر بھی تنقید۔ بعض تو ایسے ہیں جو یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ یسوع حقیقی تاریخی شخصیت تھا ہی نہیں بلکہ ایک افسانوی شخصیت ہے جس کی مسیحیت نے پرستش کرنا شروع کر دی ہے۔ مزید کچھ لوگوں نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تاریخی یسوع مسیح اور انجیل میں بیان کردہ یسوع مسیح یکسر دو مختلف شخصیات ہیں۔ اُن کے مطابق اگر تاریخ میں یسوع مسیح نامی کوئی ہستی ہوگزری بھی ہے تو وہ بالکل عام انسانوں جیسا کوئی انسان تھا لیکن اناجیل میں جس یسوع کی بات کی گئی ہے وہ دیومالائی کردار ہے۔ اِس سیمینار کی مدد سے آپ یسوع مسیح کی ذات کے تاریخی پہلو کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ بائبل سے باہر عام تاریخ یسوع کے بارے میں کیا کہتی ہے اور اُسے کس طرح سے پیش کرتی ہے

مصلح علمِ الہیات کیا ہے؟

گزشتہ چند صدیوں کے دوران بہت سارے نام نہاد علماء نے مختلف انداز سے مسیحیت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کبھی وہ نئے عہد نامے کی حقانیت پر سوال اُٹھاتے ہیں تو کبھی معجزات اور نئے عہد نامے کی تعلیمات کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ ایک بہت بڑا گروہ ایسا بھی ہے جو یسوع کی ذات پر طرح طرح کے حملے کرتا رہتا ہے جیسے کہ یسوع مسیح کے الوہیت کے دعوؤں پر اعتراضات، اور اُسکی بشریت کے مختلف پہلوؤں پر بھی تنقید۔ بعض تو ایسے ہیں جو یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ یسوع حقیقی تاریخی شخصیت تھا ہی نہیں بلکہ ایک افسانوی شخصیت ہے جس کی مسیحیت نے پرستش کرنا شروع کر دی ہے۔ مزید کچھ لوگوں نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تاریخی یسوع مسیح اور انجیل میں بیان کردہ یسوع مسیح یکسر دو مختلف شخصیات ہیں۔ اُن کے مطابق اگر تاریخ میں یسوع مسیح نامی کوئی ہستی ہوگزری بھی ہے تو وہ بالکل عام انسانوں جیسا کوئی انسان تھا لیکن اناجیل میں جس یسوع کی بات کی گئی ہے وہ دیومالائی کردار ہے۔ اِس سیمینار کی مدد سے آپ یسوع مسیح کی ذات کے تاریخی پہلو کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ بائبل سے باہر عام تاریخ یسوع کے بارے میں کیا کہتی ہے اور اُسے کس طرح سے پیش کرتی ہے